امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کی دھوتی اتار دی

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تازہ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے رواں سال مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹرمپ کے مطابق اس دوران دونوں ممالک کے درمیان شدید فضائی جھڑپیں ہوئیں جن میں سات فوجی طیارے مار گرائے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہوں نے بروقت مداخلت نہ کی ہوتی تو یہ تنازع ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا تھا۔
ٹرمپ نے انٹرویو میں بتایا کہ جب انہیں اندازہ ہوا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان صورتحال بگڑ رہی ہے تو انہوں نے دونوں حکومتوں کو سخت تجارتی اقدام کی دھمکی دی۔ ان کے بقول، “میں نے دونوں سے کہا کہ اگر یہ جنگ نہ رکی تو میں تم دونوں پر دو سو فیصد ٹیرف لگا دوں گا۔ اور یقین کریں، اگلے ہی دن دونوں نے لڑائی بند کر دی۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے سے لاکھوں زندگیاں بچ گئیں اور خطے میں امن بحال ہوا۔
سابق امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بعد میں ان سے رابطہ کر کے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی کوششوں سے خطہ ایک بڑی تباہی سے بچ گیا۔ تاہم، ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ سات مار گرائے گئے طیاروں کا تعلق کس ملک سے تھا، اور نہ ہی ان دعووں کی کوئی آزاد تصدیق ممکن ہو سکی ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مئی 2025 میں بھارت نے “آپریشن سندور” کے نام سے ایک بڑی فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سخت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ اس دوران سرحدی جھڑپیں، فضائی حملے اور میزائل فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ بھارت نے کہا تھا کہ اس نے پانچ پاکستانی طیارے مار گرائے، جبکہ پاکستان نے اس کی تردید کرتے ہوئے ایک بھارتی طیارہ گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے غیر رسمی طور پر ٹرمپ کے اس بیان کو مبالغہ آرائی قرار دیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق، جنگ بندی دونوں ممالک کے اپنے فوجی رابطوں اور سفارتی ذرائع سے طے پائی تھی، کسی بیرونی دباؤ سے نہیں۔ پاکستانی تجزیہ کاروں نے بھی ٹرمپ کے بیان کو سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران عالمی معاملات میں اپنے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔
امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ اُس وقت امریکہ نے دونوں ممالک سے تحمل برتنے کی اپیل کی تھی، لیکن اس بات کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں کہ جنگ بندی کا فیصلہ صرف ٹرمپ کی دھمکی کے نتیجے میں ہوا۔ واشنگٹن کے ایک تجزیہ کار کے مطابق، جنوبی ایشیا میں تنازعات کے حل میں فوجی، سفارتی اور علاقائی عوامل بیک وقت کام کرتے ہیں، محض تجارتی دباؤ سے اس نوعیت کی جنگ نہیں رکی جا سکتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تازہ بیان نے ایک بار پھر جنوبی ایشیائی تنازعات پر بین الاقوامی توجہ مبذول کرائی ہے۔ اگرچہ ان کے دعوے کی تصدیق ممکن نہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات اب بھی نازک مرحلے میں ہیں، اور کسی بھی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں صورتحال ایک بار پھر سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ مسلسل سفارتی مکالمے اور باہمی اعتماد سازی میں مضمر ہے۔
Powered by Froala Editor
مصنف کے بارے میں

ممتاز بنگش مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور صحافت کے میدان میں بیس سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں