پشاور ہائی کورٹ: گورنر کو نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کا حکم

پشاور ہائی کورٹ: گورنر کو نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کا حکم
پشاور ہائی کورٹ کی عمارت۔ عدالت نے گورنر کو 15 اکتوبر تک نومنتخب وزیر اعلیٰ سے حلف لینے کا حکم دیا۔
پاکستان2025/10/14

پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے نو منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حلف برداری سے متعلق محفوظ فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے نو صفحات پر مشتمل فیصلے میں حکم دیا ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی بدھ، 15 اکتوبر کو شام چار بجے تک سہیل آفریدی سے حلف لیں۔


فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر گورنر مقررہ وقت تک نومنتخب وزیر اعلیٰ سے حلف نہیں لیتے تو اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی حلف برداری کا عمل مکمل کریں گے۔


عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 255(2) کے تحت چیف جسٹس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ حلف لینے کے لیے کسی بھی شخص کو نامزد کر سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق یہ احکامات صوبے میں آئینی خلا ختم کرنے اور آئین کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے دیے گئے ہیں۔


پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نومنتخب وزیر اعلیٰ کے حلف میں مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی، کیونکہ صوبے کے انتظامی امور کے تسلسل کے لیے وزیر اعلیٰ کا عہدہ خالی نہیں رہ سکتا۔


فیصلے کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور گورنر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی اس وقت کراچی میں موجود ہیں اور وہ بدھ کے روز دوپہر دو بجے واپس پشاور پہنچ جائیں گے۔


یہ بھی پڑھیں؛

سہیل آفریدی کے انتخاب پر جے یو ايی ف کا چیلنج حلف برداری کا عمل رک گیا


عدالت نے فیصلے میں سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے استعفے سے متعلق بھی مشاہدات دیے ہیں۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ گورنر نے علی امین گنڈا پور کو سہ پہر تین بجے استعفے کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا، تاہم علی امین گنڈا پور نے 13 اکتوبر کو صوبائی اسمبلی کے فلور پر اپنے استعفے کی تصدیق کر دی تھی۔


عدالتی ریکارڈ کے مطابق علی امین گنڈا پور کی اسمبلی میں کی گئی تقریر کی ٹرانسکرپٹ بھی عدالت میں جمع کرائی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے باقاعدہ طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔


عدالت نے آئین کے آرٹیکل 130(5) کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اس شق کے مطابق وزیر اعلیٰ کا عہدہ خالی تصور کیا جاتا ہے، اس لیے نو منتخب وزیر اعلیٰ کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے حلف اٹھانا آئینی تقاضا ہے۔


پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد امکان ہے کہ خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی غیر یقینی صورتحال میں کسی حد تک کمی آئے گی، اور صوبائی حکومت کے قیام کا عمل آئینی طور پر مکمل ہو جائے گا۔

Powered by Froala Editor

مصنف کے بارے میں

ممتاز بنگش
ممتاز بنگش

ممتاز بنگش مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور صحافت کے میدان میں بیس سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں