کیا عمران خان زندہ ہیں؟ سوشل میڈیا پر افواہوں نے تناؤ بڑھا دیا

کیا عمران خان زندہ ہیں؟ سوشل میڈیا پر افواہوں نے تناؤ بڑھا دیا
پارٹی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی صحت اور ان کے قید کے حالات کے بارے میں شفاف معلومات سامنے لائی جائیں۔ فوٹو سوشل میڈیا/ دی گارڈین
پاکستان2025/11/28

 سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت اور ان کی جیل میں موجودگی سے متعلق افواہوں نے گزشتہ روز ملک بھر میں بے چینی کی نئی لہر پیدا کر دی۔ سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی اطلاعات پھیلائی گئیں کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں مبینہ طور پر شدید طبی مسئلہ لاحق ہوا ہے یا وہ انتقال کر چکے ہیں۔ ان افواہوں کے تیزی سے پھیلنے کے باعث سیاسی ماحول میں ہلچل مچ گئی۔ تاہم اڈیالہ جیل انتظامیہ نے ان تمام خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ عمران خان جیل کے اندر موجود ہیں، صحت مند ہیں اور انہیں مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ یہ افواہیں ایک منظم غلط معلوماتی مہم کا حصہ معلوم ہوتی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔


دوسری جانب عمران خان کی بہنوں کو کئی ہفتوں سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے باعث معاملہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ خان نے گزشتہ دنوں اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کیا، جہاں پی ٹی آئی کے مطابق پولیس کی جانب سے انہیں دھکے دیے گئے اور اُن کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ عمران خان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنے بھائی کی خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں مگر مسلسل رکاوٹوں کے باعث اُن کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خاندان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ملاقات جیسا بنیادی حق مسلسل چھین لیا جائے تو افواہوں کے پھیلنے میں بھی تیزی آ جاتی ہے۔


دریں اثنا وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عمران خان کو جیل میں خصوصی سہولیات فراہم ہیں، جن میں ٹی وی، ورزش کا سامان اور معیاری خوراک شامل ہے۔ انہوں نے افواہوں کو سیاسی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عمران خان مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں پھیلائی جانے والی اطلاعات حقائق کے منافی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جیل میں ہر ممکن دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے بے بنیاد دعوؤں کا مقصد صرف سیاسی انتشار پھیلانا ہے۔


پی ٹی آئی کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی صحت اور ان کے قید کے حالات کے بارے میں شفاف معلومات سامنے لائی جائیں تاکہ عوامی تشویش دور ہو سکے۔ پی ٹی آئی کے مطابق جب اہلِ خانہ کو باقاعدہ ملاقات کی اجازت نہیں ملتی تو شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری بات ہے اور اس صورت حال سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔


سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں نے نہ صرف ملکی سیاسی منظرنامے کو متاثر کیا بلکہ غیر ملکی میڈیا میں بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی سیاسی تقسیم کا شکار ہے، غلط معلومات مزید بے یقینی اور انتشار کو جنم دیتی ہیں۔ خاص طور پر اس لیے کہ عمران خان ایک بڑے سیاسی حلقے میں مقبولیت رکھتے ہیں اور اُن کے بارے میں کسی بھی خبر کا فوری ردِ عمل سامنے آتا ہے۔


صورتحال کی مجموعی نوعیت کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ حکومت اور جیل حکام عمران خان کی صحت کے حوالے سے مکمل اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم ملاقات کی اجازت نہ ملنے اور اطلاعات کی محدود ترسیل نے عوام کے ذہنوں میں سوالات ضرور پیدا کیے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں قید میں موجود رہنماؤں کے حوالے سے افواہیں کوئی نئی بات نہیں، لیکن عمران خان کی مقبولیت اور موجودہ حالات کے باعث ان افواہوں کا اثر کہیں زیادہ گہرا محسوس ہو رہا ہے۔ اس سارے معاملے نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ ملک میں شفافیت، معلومات تک رسائی اور سیاسی اعتماد کا ماحول کس حد تک مضبوط یا کمزور ہو چکا ہے۔

Powered by Froala Editor

مصنف کے بارے میں

ممتاز بنگش
ممتاز بنگش

ممتاز بنگش مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور صحافت کے میدان میں بیس سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں