حلقہ پی کے 91 کی عوام مسائل میں کیوں دھنستی جا رہی ہے؟

یونین کونسل شاہ پور کی عوام شروع ہی سے بدقسمت رہی ہے ایک تو اس کی شہر سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہونے کے باوجود اسے حلقہ پی۔کے 91 کے ساتھ رکھا گیا ہے۔یہ حلقہ لاچی شکردرہ کے ساتھ شامل ہے اس لیے ہمیشہ وہاں سے ہی لوگ حکومت میں رہے ہیں لاچی سے کوہاٹ کی طرف آج تک کوئی نمائندہ منتخب نہیں ہوا یہ پہلی بار ہے کہ اللہ نے اس طرف والی عوام کو موقع دیا اور داود آفریدی پہلی بار اس اس طرف سے ایم۔پی اے منتخب ہوئے ہیں
یہاں الیکشن میں ہمیشہ تحصیل لاچی اور۔شکردرہ کے نمائندے منتخب ہوئے اور انہوں نے چند چھوٹے موٹے روڈ بنا کر عوام کو بےوقوف بنایا اس بار جب داود آفریدی ایم۔پی اے بنے تو اپنی پارٹی کے علاوہ مخالفین بھی۔اس بات پے خوش تھے کہ کم۔سے کم پہلی بار لاچی شکردرہ۔سے ہٹ کے نمائندہ منتخب ہوا ہے جو۔علاقے کی محرومیوں کا۔ازالہ کرے گا مگر افسوس اب پورا حلقہ ناامیدی کا شکار ہے خاص کر اگر میں یونین کونسل شاہ پور کی بات کروں تو ایسے لگتا ہے جیسے یہ۔علاقہ کوہاٹ شہر سے کہیں باہر کا ہو یہاں مسائل کی بھرمار ہے
صحت تعلیم روڈز ااور خاص کر بجلی کابرا حال ہے گیس تو خیر۔ابھی تک اس علاقے میں پہنچی ہی نہیں یہاں۔بجلی کی بات کی جائے تو اس وقت یہاں سب سے بڑا مسئلہ بجلی کا ہے صرف چار گھنٹے بجلی کا وعدہ۔کیا گیا اس میں بھی اب پوری پوری رات بجلی نہیں ہوتی گرمیوں میں تو لوڈ کا بہانہ بنا۔کر بجلی نہیں دی جاتی تھی اب سردیاں شروع ہیں تو اب بھی پوری پوری۔رات بجلی نہیں ہوتی لوگ صبح وضو کے لیے آگ جلاکر پانی گرم کرتے ہیں بے شک علاقے کے لوگ بل نہیں دیتے مگر اسکی وجہ بھی محکمہ واپڈا ہے محکمے کے لوگوں کی وجہ۔سے آج پورا علاقہ ڈیفالٹر ہے اور بلنگ اور میٹر ریڈروں کی کرپشن کی وجہ سے لوگ بل۔دینے سے عاجز آئے ہیں
دو سالوں میں ایم۔پی اے صاحب نے اتنا نہیں کیا کہ وہ۔علاقے میں آکر ایک گرینڈ جرگہ منعقد کرتے اور اس بجلی کے مسئلے کا حل۔نکالتے ان کے پاس فٹ بال میچوں میں مہمان خصوصی بننے کا۔ٹائم تو ہوتا ہے مگر علاقے کے لیےآکر انکے مسائل کے بارے بات کرنا اسکے لیے ان کے پاس ٹائم۔نہیں ہوتا اایم پی اے صاحب کے اردگرد شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ٹولا سب اچھا ہے کی۔رپورٹ دے کر انکی کارکردگی کو۔متاثر کررہا ہے
بجلی کے علاوہ اس یونین کونسل میں تعلیم کا برا حال ہے لڑکوں کے واحد سکول لعل گڑھی کے دو کمرے پانچ سالوں سے تعمیر نہیں ہورہے بار بارآواز اٹھانے کے باوجود کمرے ادھورے ہیں بچے سردی گرمی میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کر۔رہے ہیں روڈز خراب ہیں ملک آباد نہر۔روڈ گزشتہ۔دو سالوں سے کھود کر اس پے پتھر ڈالے گئے ہیں دو سالوں میں ان کے پاس فنڈ نہیں کہ اسے بنا سکیں اس روڈ سے گزرتے وقت لوگ بددعائیں دیتے نظر آتے ہیں صحت کے حوالے سے پوری یونین کونسل میں صرف ایک بی ایچ یو ہے گیس کا۔تو عوام سوچ ہی نہیں سکتی کیونکہ پندرہ۔سالوں میں ایم این اے صاحب وعدے کرکرکے آج تک اس یونین کونسل تک گیس نہ۔پہنچا۔سکے اس لیے عوام نے گیس کے بارے میں سوچنا۔چھوڑ۔دیا ہے تاندہ۔ڈیم کا کام سست روی کا شکار۔ہے اس بار بھی بہت زیادہ۔زمیندار گندم کی فصل کاشت کرنے سے محروم رہ گئے ہیں
محکمہ۔زراعت صرف گمبٹ تک محدود ہے وہاں کا نمائندہ ہمیشہ اپنی عوام۔کو۔محکمہ۔زراعت کی ہر۔سکیم۔سے مستفید کراتا رہتا ہے جبکہ یونین۔کونسل۔شاہ۔پور کے تمام ویلج چیئرمین چند بیج کی بوریاں لے کر اپنوں میں تقسیم کرنے کے بعد خاموش بیٹھ جاتے ہیں کس کس چیز کا رونا روہا۔جائے ایم۔پی اے صاحب سے تو عوام بڑی پر امید تھی مگر دو سال گزرنے کے بعد اب عوام ناامیدی کا شکار۔ہے ہر ایک یہی سوچ رہا۔ہے کہ۔شکردرہ۔اور لاچی کے نمائندے اور موجودہ ایم پی اے میں کوئی فرق نہیں وہ بھی لارے دیتے تھے اور یہ بھی لارے دیتا رہتا ہے وہ۔بھی فون نہیں اٹھاتے تھے یہ بھی اپنے مطلب کی بات سن کر باقی سب نظر انداز کر دیتا ہے گروپ میسج کیا جائے تو موصوف وضاحت دینی گوارا نہیں کرتے عوام اب گلہ کرے بھی تو کس سے کرے
خیر تحریر بہت لمبی ہو گئی ہے بحرحال یہ۔اقتدار ختم ہونے والی چیز ہے دوبارہ بھی الیکشن ہونے ہیں اور پھر بھی اسی عوام کا سامنا کرنا ہے اس لیے میں اپنی اس تحریر کے زریعے کہنا چاہتا ہوں کہ۔ایم۔پی۔اے صاحب اللہ۔نے آپ کو۔پہلی بار بہت اچھا موقع دیا ہے اس لیے عوام۔کی۔خدمت کرکےاپنے آپ کو امر کر لیں ایسا نہ ہو۔کہ۔کہ۔آپ کو بھی عوام باقی نمائندوں کی طرح بھول۔جائے
Powered by Froala Editor
مصنف کے بارے میں

اے ڈی بنگش مختلف قومی اور مقامی میڈیا اداروں کے ساتھ کام تجربہ رکھتے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی کافی مقبولیت رکھتے ہیں